> ## Content Index
> Fetch the complete content index at: https://copper-trout.pikapod.net/llms.txt
> Use this file to discover other available public pages before exploring further.

# کرتارپورراہداری مسعودہ پاکستان کو موصول،تمام شرائط مان لی گئیں،سروس فیس بڑھائے جانے کا امکان
- URL: https://copper-trout.pikapod.net/5786/
- Published: 2019-10-02T09:20:29.000Z
- Updated: 2026-10-16T16:49:09.000Z
- Author: ویب ڈیسک
- Tags: پاکستان, #Migrated-1792169222758, #wp, #wp-post, #Import 2026-10-16 16:47

اسلام آباد (ربوہ ٹائمز) کرتارپورراہداری پر پاکستان نے بھارت کی تقریباً تمام شرائط مان لیں تاہم کرتارپورراہداری سروس فیس بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرتارپورراہداری پر بھارت نے معاہدے کا مسودہ پاکستان کو بھجوا دیا ہے ، مسودہ گزشتہ ہفتے بھجوایا گیا، جس میں پاکستان نے تقریباً تمام شرائط مان لیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا 20ڈالر سروس فیس کا مطالبہ شامل نہیں، پاکستان کی جانب سے بھارتی مسودے کا جواب دیے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کوبھیجےجانےوالےجوابی مسودے میں کرتارپورراہداری سروس فیس بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل کرتار پور راہداری سے متعلق بھارتی مطالبات کی مکمل فہرست سامنے آئی تھی، سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایک دن میں 5 ہزار سکھ یاتریوں کی آمد اور ویزہ فری انٹری کا مطالبہ تسلیم کیا تھا ۔

بھارت نے خصوصی مواقع پر 10 ہزار یاتریوں اور بھارت کے دیگر عقائد کے لوگوں کو بھی کرتار پور آنے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا، پاکستان نے یاتریوں کو گروپس یا انفرادی طور پر پیدل کرتار پور آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی تسلیم کرلیا تھا۔

یاد رہے کرتارپور راہداری کا افتتاح 9 نومبر کو ہوگا، افتتاح کے بعد یہ پاکستان کا سب سے بڑا گردوارہ بن جائے گا، 9نومبر سے بھارت سے یاتری آنا شروع ہو جائیں گے ، 5 ہزار یاتریوں کے داخلے اور اخراج کے لیے 76 امیگریشن کاؤنٹرز ہوں گے جبکہ دس ہزار یاتریوں کی آمدورفت کے لئے کل 152 کاؤنٹر بنائے جائیں گے۔  
بھارت سے یاتریوں کا کرتارپورراہداری بغیر ویزہ مفت داخلہ ہو گا جبکہ امیگریشن ٹرمینل پرآمد کیساتھ مخصوص شناختی کارڈ کا اجراہو گا، یاتری بذریعہ بس گوردوارہ تک پہنچ کرآزادانہ مذہبی رسومات اداکر سکیں گے۔

خیال رہے گوردوارہ کی تعمیر میں سکھ مذہب اور تاریخی اہمیت کا مکمل خیال رکھا گیا ہے ، پاکستان نے منصوبےپر مقامی وسائل خرچ کئے،کوئی بیرونی امداد نہیں لی۔