> ## Content Index
> Fetch the complete content index at: https://copper-trout.pikapod.net/llms.txt
> Use this file to discover other available public pages before exploring further.

# افغان طالبان کی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سے ملاقات
- URL: https://copper-trout.pikapod.net/5801/
- Published: 2019-10-03T10:07:04.000Z
- Updated: 2026-10-16T16:49:09.000Z
- Author: ویب ڈیسک
- Tags: پاکستان, #Migrated-1792169222758, #wp, #wp-post, #Import 2026-10-16 16:47

اسلام آباد (ربوہ ٹائمز نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے افغان طالبان کے وفد سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں افغان امن عمل پر گفتگو کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق طالبان کااعلیٰ سطحی وفد جو کہ گزشتہ رات سے پاکستان میں موجود ہے، اس وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کی۔

ملاقات میں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ طالبان کا وفد گزشتہ رات گئے دوحہ سے پاکستان پہنچا تھا۔

افغان طالبان کے وفد نے سب سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی جس میں افغان امن عمل کی جلد بحالی پراتفاق کیا گیا تھا ، اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان افغان امن کے عمل کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

اس موقع پر وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں دوطرفہ تعلقات،ثقافتی ،تاریخی بنیادپرہیں، افغانستان میں عدم استحکام کاخمیازہ یکساں طورپربھگت رہے ہیں، پاکستان سمجھتا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ، افغان امن کیلئے مذاکرات ہی مثبت اورواحد راستہ ہے۔

یاد رہے کہ طالبان کے سیاسی دفتر کا اعلیٰ سطحی وفد ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں رات دیر گئے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے اسلام آباد پہنچا تھا ، افغان طالبان کا وفد چین، روس اور ایران کے بعد پاکستان کا دورہ کررہا ہے۔

طالبان وفد اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمےخلیل زاد کی ملاقات کا بھی قوی امکان ہے، زلمے خلیل زاد بھی پانچ رکنی امریکی وفد کے ساتھ تین روز سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔

خیال رہے افغانستان میں امن کے لئے امریکا اورافغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات دوحہ میں ہورہے تھے جو کچھ عرصے سے تعطل کا شکار ہیں، افغانستان میں حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت پر امریکی صدر نے مذاکرات معطل کردیئے تھے۔